!روح

on

 کیا ڈھونڈ رہے ہو ؟ ” “میں خود کو ڈھونڈ رہا ہوں ۔” کیوں؟ تم  ہو تو یہاں موجود میرے سامنے  میرے پاس ۔” نہیں میرا وجود تو ہے یہاں مگر میرا آپ نہیں ہے۔ ”  یہ تم کیسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہو میرا خیال ہے کہ تمہیں آرام کرنا چاہیے ۔” “مجھے آرام کی ضرورت نہیں مجھے جب تک سکون نہیں ملے گا جب تک میں اپنا آپ نہ ڈھونڈ لوں ۔ ” ” اب یہ بھی میرے گوش گزار کرو کہ تم اپنا آپ کہاں تلاش کرو گے ؟” “مجھے نہی معلوم۔ میں تو خود فراموشی کی سی حالت میں ہوں میرا جسم میری روح کی تلاش میں ہے اسے پکار رہا ہے مگر وہ نہیں ملتی وہ کس کی اسیری میں ہے یہ میں نہیں جانتا۔ میں ایسے نہی جی سکتا میرا جسم بےچین یے۔ ” “میں تمہارے لئے پانی لاتی ہوں مجھے نہی سمجھ آرہا کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو۔ ”  یہ لو پانی۔” ” مجھے تھکن محسوس ہونے لگی ہے۔” “ہاں تم لیٹ جاؤ تھوڑی دیر کے لئے آنکھیں بند کرلو۔” “آج پھر یہ کسی روح اور وجود کی تلاش میں نکلا تھا ۔ اب تو روز کا معمول ہوتا جارہا ہے کہ مجھے اسکو نیند کی گولی دینی پڑتی ہے”۔

 
 

Advertisements

4 Comments Add yours

  1. Shireen Khan says:

    👍👍

    Liked by 1 person

  2. Arfa Saad says:

    Zabardast kaawish hai yaar !👍

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s